بھٹکل 21/اپریل (ایس او نیوز) بھٹکل میں آج شام کو پولس کے ذریعے مبینہ طور پر مارپیٹ کے ایک کےبعد ایک واقعات سامنے آنے کے بعد مسلمانوں میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے اور عوام سوال کررہے ہیں کہ کیا بھٹکل میں لاک ڈاون کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ تو نہیں بنایا جارہا ہے ؟
مبینہ طور پر پہلا واقعہ شام قریب آٹھ بجے مخدوم کالونی میں پیش آیا جس میں مولوی آفروز (31) بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔ خبر ملی ہے کہ ان کے پیر کو شدید چوٹ لگی ہے اور انہیں شرالی سرکاری اسپتال لے جایا گیا ہے۔
مخدوم کالونی کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دو پولس اہلکار ایک بائک پر ہیڈ لائٹ بند کرکے خاموشی کے ساتھ آئے ، پہلے انہیں ایک 22 سالہ نوجوان نظر آیا جو دودھ لے کر گھر جارہا تھا، ان اہلکاروں نے اس پر ڈنڈے برسائے، پھریہی بائک آگے بڑھی، اس دوران مولوی آفروزمغرب کی نماز پڑھ کر قریب ہی واقع اپنے گھر جارہے تھے ، ان اہلکاروں نے اچانک ان پر ڈنڈے برسانے لگے۔پھر کچھ ہی دیر میں رفوچکر ہوگئے۔ خبر ملی ہے کہ یہی پولس اہلکار بعد میں ہنومان نگر کی طرف آگے بڑھتے ہوئے وہاں ایک 16 سالہ لڑکے پر بھی ڈنڈے برساتے ہوئے آگے کی طرف چلے گئے۔
مخدوم کالونی کے لوگوں نے اس واقعے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا اس طرح اپنے گھر کے باہر اکیلے جانے پر بھی پابندی عائد ہے ؟ کیا ان اہلکاروں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ جس کو چاہیں کسی بھی علاقہ میں گھس کر لوگوں پر ڈنڈے برسائیں ؟ لوگوں نے بائک کی ہیڈلائٹ بند کرکے آنے پر بھی سوالات اُٹھائے ہیں کہ آخر ان کا اس طرح خاموشی سے آنے کے پیچھے کیا منشاء کارفرما تھا ؟
اسی طرح کا ایک اور واقعہ شام قریب 8:30 بجے پیش آیا جس میں ایک شخص بری طرح زخمی ہوگیا اور انہیں شرالی سرکاری اسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد کنداپور لے جایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ مزمل حسن سائب سعدا (50) طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی بنا پر اپنے داماد کے ساتھ بائک کی پچھلی سیٹ پر سوار ڈاکٹر کے پاس جارہے تھے کہ آسیہ اسپتال کے قریب پولس کی ایک جیپ ان کی بائک کا پیچھا کرتے ہوئے اتنی تیزی کےساتھ آئی کہ بائک سوار کو لگا کہ وہ ان کی بائک پر ہی چڑھ جائے گی۔ بائک سوار نے ہڑبڑاہٹ میں اپنی بائک کو فوری کنارے لینے کی کوشش کی جس کے دوران توازن بگڑ گیا اور بائک نیچے گرپڑی۔ بائک کی پچھلی سیٹ پر سوار مزمل کے سر کو شدید چوٹ لگی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بائک نیچے گرنے کے بعد پولس کی جیپ انہیں وہیں زخمی حالت میں چھوڑ کر فراٹے بھرتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
آج کے ان واقعات کے بعد پورے شہر کے مسلمانوں میں ناراضگی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سوشیل میڈیا پر پولس کے روئے کو لے کر جہاں ایک طرف سوالات اُٹھائے جارہے ہیں وہیں تنظیم کے ذمہ داران کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے کہ ذمہ داران کی خاموشی کی وجہ سے پولس شہر میں غنڈہ گردی کرنے میں مصروف ہے۔ اس تعلق سے پوچھے جانے پر قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے صدر جناب ایس یم سید پرویز نے بتایا کہ اُنہیں واقعے کے تعلق سے جانکاری ملی ہے جس کے بعد انہوں نے فوری طور پر بھٹکل کے اسسٹنٹ کمشنر اور بھٹکل کے ڈی وائی ایس پی دونوں سے فون پر رابطہ کرکے ان واقعات کی شکایت کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پولس غیر ضروری طور پر عوام میں خوف وہراس پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اس طرح کسی پرخواہ مخواہ ڈنڈے برسانا بالکل غلط ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ آج کے واقعات کو لے کر تنظیم کا ایک وفد کل بدھ صبح اسسنٹنٹ کمشنر اور ڈی وائی ایس پی سے ملاقات کرے گا اورپولس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کرنے کا مطالبہ کرے گا۔ واقعے کو لے کر تنظیم کےاہم لیڈر اور جے ڈی ایس قائد عنایت اللہ شاہ بندری نے بھی خاطی پولس اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کرنے پر زور دیا ہے۔
واقعے کے تعلق سے بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے صدر امتیاز اُدیاور نے بھی سخت ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ انہوں نے بھی بھٹکل ڈی وائی ایس پی سے آج کے واقعات کو لے کر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے شکایت کی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ اگر پولس کے ان اہلکاروں کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی تو پھر بھٹکل کے عوام راستوں پر اُترنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ امتیاز اُدیاور نے بتایا کہ ایک شخص کے پیر کو، ایک شخص کی پیٹھ کو اور ایک شخص کے سر کو شدید چوٹ لگی ہے انہوں نے پولس کی مبینہ طور پر اس طرح کی کرتوتوں کی سخت مذمت کی۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل یعنی پیر کو بھی اسی طرح کی ایک واردات بھٹکل کے تینگنگونڈی میں پیش آئی تھی جہاں ایک مسجد سے باہر نکل رہے تین لوگوں کو پولس نے اپنی تحویل میں لیتے ہوئے تھانہ لے جاکر بٹھایا تھا بعد میں مسجد کے ذمہ داران کی مداخلت کے بعد اُنہیں رہا کردیا تھا۔